معاف کرنا انسان کو کمزور نہیں بناتا بلکہ دل اور ذہن کو آزاد کرتا ہے۔ جب ہم کسی کو معاف کرتے ہیں تو اصل میں اپنے اندر جمع تکلیف، غصہ اور بوجھ کو چھوڑ دیتے ہیں۔ معافی کا مطلب یہ نہیں کہ ہر رشتہ پہلے جیسا ہو جائے یا ہر شخص کو دوبارہ زندگی میں جگہ دی جائے۔ بعض اوقات معاف کرنے کا اصل مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ہم آگے بڑھ سکیں، وقار کے ساتھ اور سکون کے ساتھ۔ حدود قائم رکھنا خود سے محبت کی علامت ہے، اور یہی حقیقی ذہنی طاقت ہے۔\r\n
Location: Chungi No. 1, Suraj Miani Road, Multan
No related posts.
Comments